بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی این بی سی نیوز میگزین نے پینٹاگون کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے صہیونی ریاست کی طرف سے ریاستہائے متحدہ کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرے کی سطح کو ممکنہ بلند ترین درجے، یعنی "بُحرانی (Critical) سطح تک بڑھا دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ایران کے ساتھ جنگ کے انتظام کے طریقہ کار پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد ہؤا ہے اور اس نے اسرائیلیوں کی طرف سے اعلیٰ امریکی حکام کی ٹارگیٹڈ اور مربوط کوششوں کے بارے میں خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔
حصۂ دوئم:
پینٹاگون نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
اگرچہ اتحادیوں اور دشمنوں کے درمیان باہمی جاسوسی پوری دنیا میں معمول کی بات ہے، لیکن موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے زور دیا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ کوششیں معمول کے مطابق متوقعہ جاسوسی سرگرمیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CIIS) میں دفاع اور سلامتی کی نائب ڈائریکٹر ایمیلی ہارڈنگ (Emily Harding) نے اس بارے میں کہا: "اسرائیل کے پاس انتہائی جارحانہ انٹیلیجنس سروس ہے اور وہ اس بات میں شدید دلچسپی رکھتے ہیں کہ ہم [امریکی] کیا کر رہے ہیں۔"
یہ پہلا موقع نہیں ہے اسرائیل کی طرف سے امریکا کی جاسوسی کے بارے میں خدشات اٹھائے گئے ہوں۔ سنہ 1980ع کی دہائی میں، جوناتھن پولارڈ (Jonathan Pollard) کا مقدمہ - امریکی بحریہ کے انٹیلیجنس تجزیہ کار جس نے خفیہ دستاویزات اسرائیل کو فراہم کیں - دونوں ریاستوں کے تعلقات میں جاسوسی کا سب سے بڑا بحران تھا۔
تاہم، امریکی عہدیداروں نے زور دیا ہے کہ اس نئی تشخیص کا ابھی تک دونوں ممالک کے درمیان روزانہ اور اعلیٰ سطحی انٹیلیجنس تعاون، ـ خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ کے سلسلے میں، دوطرفہ تعاون ـ پر کوئی اثر نہیں ہؤا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقیدی جائزہ:
پہلی بات کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا یہ بھی امریکہ اسرائیل (جن کے درمیان آقا اور غلام کا رشتہ قائم ہے، کبھی امریکہ غلام کبھی اسرائیل غلام) کی معمول کی نورا کشتی ہے، یا نہیں بلکہ مسئلہ اس بار مسئلہ سنجیدہ ہے! مسئلہ بہرحال مشکوک ہے کیونکہ دونوں ایک مورچے میں کھڑے ہوکر پورے عالم اسلام کے خلاف نبردآزما ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں کا پورا اختیار یہودی پراپرٹی ڈیلر اسٹیو وٹکاف اور ٹرمپ کے یہودی پراپرٹی ڈیلر داماد جرڈ کوشنر کے پاس ہے جو امریکی ملازمین کم اور نیتن یاہو کے گماشتے زیادہ، لگتے ہیں
اور اگر نائب صدر جے ڈی وینس کو اس ٹیم کا سربراہ مانا جائے تو وہ ـ اس کے اپنے الفاظ کے مطابق ـ روزانہ کارکردگی رپورٹ ٹرمپ سے پہلے، نیتن یاہو کو فراہم کرتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کے ان تینوں اہم ارکان اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک روزہ اسلام آباد مذاکرات کے دوران کئی مرتبہ فون پر نیتن یاہو سے رابطے کئے اور طرہ یہ کہ "امریکی نائب صدر" نے اسلام آباد سے واپس جاتے ہوئے ـ ٹرمپ سے پہلے ـ نیتن یاہو کو مذاکرات کی رپورٹ دی تھی۔
تیسری بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیفری ایپسٹین کیسز کا سب سے بڑا مجرم ہے۔ وہ بارہا و بارہا ایپسٹین کے بدنام زمانہ جزیرے کا مہمان رہا ہے اور عیاشیاں کرتا رہا ہے؛ وہی جزیرہ جس میں کم سن بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور اسرائیلی جاسوسی جیفری ایپسٹین پور جزیرے میں کیمرے لگا کر وحشی مہمانوں کی حیوانی حرکات و سکنات کی ویڈیو فلمیں بنایا کرتا تھا تاکہ بعد میں اسرائیل انہیں بلیک میل کر سکے۔ ٹرمپ کی بھی بے شمار ویڈیوز اور تصویریں اس وقت صہیونی ریاست کی ایجنسیوں کی الماریوں میں قید کر لی گئی ہیں، جن میں سے ایک ایسی ویڈیو بھی ہے جس میں ٹرمپ ایک بالکل preteen بچی پر زیادتی کرتا ہے اور جب قریب المرگ ہوجاتی ہے تو ایپسٹین اسے مار دیتا اور پھر اس کا گوشت ٹرمپ کو پیش کرتا ہے اور ٹرمپ بھی اسے کھا لیتا ہے، "نوجوانی لوٹانے کی دوا کے طور پر"، اور پھر ایپسٹین طفل خوری کی یہ ویڈيو موساد کے سپرد کرتا ہے جو اس وقت نیتن یاہو کے پاس ہے اور وہ ٹرمپ کو اسی ویڈیو کی بنیاد پر انگلیوں پر نچا رہا ہے۔
چوتھی بات یہ کہ سنہ 2003 کے بارے میں ایک امریکی اہلکار کے اعترافات کے مطابق، پینٹاگون میں امریکیوں سے زیادہ اختیارات اسرائیلیوں کے پاس ہیں اور امریکی کانگریس پر گویا موساد کا باقاعدہ قبضہ ہے۔
اب جو اس طرح کی فکرمندیوں کا اظہار ہوتا ہے یقینا مضحکہ خیز ہے، بھئی اسرائیلی جاسوس وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہیں چنانچہ مذاکرات پر اسرائیلی جانسوسوں کی نگرانی کے خدشے کے بارے میں امریکی ذرائع کی رپورٹ بھی درست نہیں لگتی بلکہ کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے ایک ماحول سازی کی کوشش لگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: آزادہ شاہچراغی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ